میں نے قسمت کو آزمایا تھا
وہ مری زندگی میں آیا تھا
میں نے اپنا سمجھ لیا تجھ کو
تو جو اپنا نہیں پرایا تھا
اس کے دل میں تھا کوئی پہلے سے
جس کسی سے بھی دل لگایا تھا
ساتھ تیرے رہا جو برسوں سے
میں نہیں تھا وہ میرا سایہ تھا
خواب میں اک خیال تھا شاید
اس نے جیسے گلے لگایا تھا
میرے آنگن میں پھول کھلتے گئے
وہ جو بھولے سے مسکرایا تھا
روشنی میں جو میرے ساتھ رہا
میں تھا‘ تو تھا یا میرا سایہ تھا
وہ تصور تھا یا کوئی تصویر
تیرے آنے پہ کون آیا تھا؟
وقت ساکت، مقام بھی ساکت
حسن نے معجزہ دکھایا تھا
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا
جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام
نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام وہ کوئی خواب تھا جس کو...
